عقیق اور مسلم روایت کے پتھر
اسلامی روایت کے پتھر: عقیق اور اس کے ساتھی
پاکستان میں مسلم روایت سے سب سے گہرا رشتہ رکھنے والا پتھر عقیق ہے، یعنی ایگیٹ اور کارنیلین۔ یہ چاندی کی انگوٹھیوں میں پہنا جاتا ہے اور گھرانوں میں ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے۔ اس کی اہمیت ان روایات سے ہے جو عام طور پر سنائی جاتی ہیں، اگرچہ علما ان کی صحت پر مختلف رائے رکھتے ہیں، اور صدیوں پرانے رواج سے بھی۔ یہ گائیڈ اسی روایت، قدرتی عقیق کے انتخاب اور ان دوسرے پتھروں کے بارے میں ہے جو مسلمان روایتی طور پر پہنتے ہیں۔
دستیاب پتھر
عقیق ہے کیا
عقیق دراصل ایگیٹ اور کارنیلین کا عربی اور اردو نام ہے، اور یہ دونوں کیلسیڈونی کی صورتیں ہیں۔ کیلسیڈونی وہ کوارٹز ہے جس کے قلم اتنے باریک ہوتے ہیں کہ آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے، اور یہ چٹانوں کے خالی حصوں میں تہہ پر تہہ جمتا جاتا ہے۔ انہی تہوں کی وجہ سے عقیق میں نرم دھاریاں، بادل جیسے حصے اور رنگ کی ہلکی ہلکی تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ موہس پیمانے پر اس کی سختی 6.5 سے 7 ہے، جو روز پہنی جانے والی انگوٹھی کے لیے کافی ہے۔ عام بول چال میں صرف "عقیق" کہیں تو اکثر سرخ، نارنجی اور بھورے پتھر مراد ہوتے ہیں، حالانکہ سیاہ، دھاری دار سلیمانی، زرد، سفید اور سبز عقیق بھی معدنی اعتبار سے عقیق ہی ہیں۔
اسلامی روایت میں عقیق کا مقام
حدیث کے بڑے مجموعوں میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ چاندی کی ایک انگوٹھی پہنتے تھے جسے مہر کے طور پر استعمال فرماتے تھے۔ مرد کے ایک چاندی کی انگوٹھی پہننے کا رواج اسی سے جڑا ہے، اور بہت سے مسلمان اسے سنت کی پیروی سمجھتے ہیں۔ کچھ روایات میں اس انگوٹھی کے نگینے کو "حبشی" کہا گیا ہے، اور علما نے اس لفظ کی مختلف تشریحات کی ہیں۔
پاکستان میں ایسی کئی روایات عام سنائی جاتی ہیں جن میں عقیق کا نام لے کر اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ محدثین ان کے درجے پر ایک رائے نہیں رکھتے، اور بہت سے سنی اہلِ علم انہیں ضعیف قرار دیتے ہیں۔ شیعہ عقیدتی لٹریچر میں عقیق پہننے کی ترغیب اہلِ بیت کے ائمہ سے منسوب ہے، اور شیعہ گھرانوں میں یہ رواج عام ہے۔ دونوں برادریوں میں عقیق صدیوں سے پہنا جاتا رہا ہے۔ کارنیلین کی مہری انگوٹھیاں خطوں اور دستاویزات پر مہر لگانے کے کام بھی آتی رہیں، اور ہمارے ہاں عقیق کی انگوٹھی اکثر والد یا دادا کی طرف سے ملا ہوا تحفہ ہوتی ہے۔ ہم پتھروں کا کاروبار کرتے ہیں، فتویٰ دینا ہمارا کام نہیں؛ اگر کسی عمل کی دینی حیثیت آپ کے لیے اہم ہے تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں۔
عقیق سے منسوب روایتی فوائد
- حفاظت: بہت سے گھرانے سفر پر جانے والے بیٹے یا مسافر کو عقیق کی انگوٹھی دیتے ہیں، ایمان اور گھر کی یاد کے طور پر۔
- سکون اور ثابت قدمی: روایت میں اسے دل کے اطمینان اور مشکل گھڑی میں صبر سے جوڑا جاتا ہے۔
- برکت: لوگ اسے کاروبار اور گھر میں برکت کی امید کے ساتھ پہنتے ہیں۔
- یاد دہانی: بہت سے پتھروں پر اسمائے الٰہی، کوئی مختصر دعا، کلمہ یا قرآنی آیت کندہ ہوتی ہے؛ ایسے پتھر کو بیت الخلا لے جانے کے بارے میں رواج مختلف ہیں، اور بہت سے لوگ پہلے اتار دیتے ہیں۔
یہ سب روایت اور عقیدہ ہے، ضمانت نہیں۔ اس میں صحت یا علاج کا کوئی دعویٰ شامل نہیں، اور ہم ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتے۔
اصلی عقیق چننے اور پہننے کا طریقہ
عقیق کوئی مہنگا پتھر نہیں، اس لیے اصل خطرہ رنگا ہوا عقیق یا شیشہ ہے جسے قدرتی بتا کر بیچا جائے۔ اصلی عقیق میں رنگ ذرا غیر یکساں ہوتا ہے اور نرم دھاریاں ہوتی ہیں؛ اچھا کارنیلین پیچھے سے ٹارچ کی روشنی ڈالیں تو اندر سے نارنجی سرخ دمکتا ہے؛ اور عدسے میں بالکل گول بلبلے نظر آئیں تو وہ شیشہ ہے۔ رنگا ہوا عقیق بازار میں عام ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ بتا کر اور اسی حساب کی قیمت پر بیچا جائے۔ "یمنی عقیق" کا نام گہرے سرخ، دمکتے پتھروں کے لیے لیا جاتا ہے، مگر کوئی علاقہ آنکھ سے ثابت نہیں ہوتا، اس لیے سامنے رکھے پتھر کو اس کے رنگ، دمک اور پالش پر پرکھیں۔ عام قیمتوں کا اندازہ قیمتوں کی ماہانہ گائیڈ سے لگائیں۔
مردانہ انگوٹھی کے لیے عموماً بیضوی یا کشن شکل کا پتھر لیا جاتا ہے جو چھنگلی کی زیادہ تر چوڑائی ڈھک لے؛ کندہ کروانا ہو تو ہموار اور صاف سطح والا پتھر چنیں۔ مردوں کے لیے چاندی روایتی جڑائی ہے، اور خواتین چاندی یا سونا جو چاہیں پہنتی ہیں۔ پتھر کو نیم گرم صابن والے پانی اور نرم برش سے دھوئیں اور بلیچ اور سخت کیمیکل سے بچا کر رکھیں۔
مسلم روایت کے دوسرے پتھر اور خریداری
درِ نجف صاف قدرتی کوارٹز ہے جو اپنے نام کے ذریعے مقدس شہر نجف سے جڑا ہوا ہے، اور شیعہ گھرانوں میں خاص طور پر محبوب ہے۔ فیروزہ، جس کے فارسی نام کو فتح سے جوڑا جاتا ہے، صدیوں سے ایران اور جنوبی ایشیا میں پہنا جا رہا ہے، اور ان میں نیشاپوری فیروزہ سب سے مشہور ہے۔ مہ نجف وہ کوارٹز ہے جس کے اندر روٹائل کی باریک سنہری سوئیاں ہوتی ہیں۔ تسبیح بھی عقیق، فیروزہ، درِ نجف اور دوسرے پتھروں میں 33 اور 99 دانوں کی بنتی ہے۔
Authentic Gems صرف قدرتی پتھر بیچتا ہے، مصنوعی یا لیب میں تیار کردہ کبھی نہیں، اور جو ٹریٹمنٹ ہمیں معلوم ہو وہ بتا دیتے ہیں۔ سرٹیفکیٹ درخواست پر مل جاتا ہے۔ ہم کراچی سے پورے پاکستان میں بھیجتے ہیں، اور کیش آن ڈیلیوری میں آپ پارسل کھول کر پتھر دیکھنے کے بعد ہی ادائیگی کرتے ہیں۔ یہی صفحہ انگریزی میں پڑھیں۔