شفافیت، سائز، تراش اور رتی کا حساب
درِ نجف کی قیمت: کیسے طے ہوتی ہے اور موازنہ کیسے کریں
درِ نجف قدرتی بے رنگ کوارٹز ہے، جسے راک کرسٹل کہتے ہیں، اور پاکستان کے بہت سے مسلمان، خاص طور پر شیعہ گھرانوں کے لیے یہ صرف ایک پتھر نہیں، عقیدت کی چیز ہے۔ اسی لیے اس کی قیمت کا معاملہ ذرا الگ ہے۔ معدن خود نایاب نہیں، پھر بھی ایک ہی وزن کے دو پتھروں کی قیمت میں بڑا فرق ہو سکتا ہے، اور بازار میں رتی، تولہ یا "فی دانہ" کے حساب سے بتائی گئی قیمتوں کا آپس میں موازنہ مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ گائیڈ اسی الجھن کو سلجھاتی ہے۔
دستیاب پتھر
Authentic Gems پر درِ نجف کی قیمتیں
نیچے والی ماہانہ جدول ہماری اپنی درِ نجف لسٹنگز سے بنتی ہے اور ہر مہینے اپ ڈیٹ ہوتی ہے۔ اس میں فی پتھر کم سے کم، عام اور زیادہ سے زیادہ قیمت دی گئی ہے، اور یہی اعداد فی کیرٹ اور فی رتی بھی، تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ وزن اور معیار قیمت کو کیسے بدلتے ہیں۔
| Weight | Weights | Stones | Per carat | Per ratti |
|---|---|---|---|---|
| All Dur-e-Najaf in stock | 5.4 – 97.5 ct | 17 | Rs 80 – Rs 490 | Rs 70 – Rs 450 |
جدول کا فی رتی کالم جواہرات کی معیاری 0.91 کیرٹ والی رتی پر ہے، سناری رتی پر نہیں۔ سب سے اونچی قیمتیں عموماً بڑے، بہت صاف اور عمدہ تراش والے پتھروں کی ہوتی ہیں، کسی خاص کہانی والے پتھروں کی نہیں۔ جدول صرف کھلے پتھروں کی ہے؛ چاندی یا سونے کی انگوٹھی میں دھات اور بنوائی کا خرچ الگ ہوتا ہے۔ دوسرے پتھروں کے لیے قیمتوں کی ماہانہ گائیڈ دیکھیں۔
درِ نجف کی قیمت کن باتوں پر ہے
- شفافیت: سب سے اہم بات۔ تقریباً ہر قدرتی راک کرسٹل میں کچھ نہ کچھ ہوتا ہے: باریک دھندلی لکیریں، ننھے کرسٹل یا بھری ہوئی دراڑیں۔ جو پتھر آنکھ سے ٹھہرے ہوئے پانی کے قطرے جیسا صاف لگے، وہ دھندلے پتھر سے کہیں مہنگا ہے۔ عدسے میں چھوٹے قدرتی نشانات عام ہیں بلکہ تسلی کی بات ہیں، کیونکہ یہی کوارٹز کو شیشے سے الگ کرتے ہیں۔ سطح تک جاتی دراڑ یا دودھیا حصہ قیمت بہت گرا دیتا ہے۔
- سائز اور وزن: صاف کوارٹز بڑے کرسٹلوں میں بنتا ہے، اس لیے اس کی قیمت سائز کے ساتھ نیلم یا یاقوت کی طرح اچانک نہیں اچھلتی۔ پھر بھی بالکل صاف بڑے پتھروں کا فی کیرٹ ریٹ کچھ بڑھ جاتا ہے۔ انگوٹھی کے لیے زیادہ تر لوگ تقریباً 10 سے 20 کیرٹ کا پتھر چنتے ہیں۔
- تراش اور شکل: اچھے گنبد والا بیضوی نگینہ کلاسک انگوٹھی کی شکل ہے؛ پہلو دار (فیسٹڈ) پتھر میں محنت زیادہ لگتی ہے۔ ٹیڑھا گنبد یا موٹا، بھاری نچلا حصہ فی کیرٹ قدر کم کر دیتا ہے۔
- پالش: راک کرسٹل ہر خراش صاف دکھا دیتا ہے؛ آئینے جیسی پالش قیمت بڑھاتی ہے۔
- قدرتی ہے یا نہیں: شیشہ اور کیوبک زرکونیا دونوں درِ نجف کے نام پر بکتے ہیں۔ زرکونیا بھاری ہوتا ہے اور رنگین چمک مارتا ہے جو راک کرسٹل میں نہیں ہوتی۔ جدول سے بہت کم قیمت والا "درِ نجف" اکثر انہی میں سے کچھ نکلتا ہے۔
- کہانی: "نجف سے لایا گیا" یا "زیارت سے آیا" جیسے پتھر بہت سے گھرانوں کے لیے بہت قیمتی ہوتے ہیں، اور یہ ذاتی عقیدت کی بات ہے۔ لیکن کوئی ٹیسٹ یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ کوارٹز کا کوئی ٹکڑا کہاں سے اٹھایا گیا۔ پیسے اس چیز کے دیں جو نظر آ رہی ہے: شفافیت، سائز، تراش اور پالش۔
بازار کا فی رتی ریٹ اور عام دھوکے
کل قیمت یعنی رتی وزن ضرب ریٹ، مگر بازار میں دو رتیاں چلتی ہیں: معیاری رتی 0.91 کیرٹ (جو ہم استعمال کرتے ہیں) اور سناری رتی تقریباً 0.61 کیرٹ۔ 9.10 کیرٹ کا پتھر 10 معیاری رتی ہے، مگر سناری حساب سے تقریباً 15 رتی۔ کیرٹ سے رتی کنورٹر یہ حساب سیکنڈوں میں کر دیتا ہے۔ ان چالوں سے ہوشیار رہیں: انگوٹھی میں لگے پتھر کو چاندی سمیت تول کر سارا وزن پتھر کا بتانا؛ کسی نامعلوم شیشے پر "نجف والا ریٹ" لگا دینا؛ سناری رتی میں کم ریٹ بتا کر وزن بھی سناری رتی میں گننا؛ اور وزن بڑھا چڑھا کر بتانا۔ ہر قیمت کو کھلے پتھر کی فی کیرٹ قیمت میں بدلیں، اور صرف ایک جیسے سائز، شفافیت، تراش اور شرائط والے پتھروں کا موازنہ کریں۔
روایت، اور ہم سے خریداری
درِ نجف بہت سے مسلمان، خاص طور پر شیعہ گھرانے، عقیدت سے پہنتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ یہ پاکیزگی اور حفاظت لاتا ہے، اور بہت سے لوگ اسے محرم یا نکاح کے موقع پر خریدتے ہیں۔ یہ روایت اور عقیدہ ہے، ضمانت نہیں؛ ہم کوئی دینی فتویٰ نہیں دیتے، اس لیے پہننے کے بارے میں کسی قابلِ اعتماد عالم سے پوچھیں۔ ہمارے ہاں ہر پتھر اپنی تصویر، وزن اور قیمت کے ساتھ الگ لسٹ ہے، آپ چاہیں تو آزاد لیب سے ٹیسٹ کروا سکتے ہیں، اور کیش آن ڈیلیوری میں رائیڈر کے سامنے پارسل کھول کر دیکھنے اور 7 دن میں واپسی کی سہولت ہے۔ کراچی میں ڈیلیوری عموماً 1 سے 2 ورکنگ دن میں ہو جاتی ہے۔ یہ مضمون انگریزی میں پڑھیں۔