سنہری سوئیوں والا کوارٹز
مہ نجف: سنہری سوئیوں والا قدرتی کوارٹز
مہ نجف روٹائلیٹڈ کوارٹز ہے، یعنی صاف یا دھوئیں جیسا کوارٹز جس کے اندر روٹائل نامی معدن کی باریک سوئیاں ہوتی ہیں، اکثر سنہری۔ اس کے نام کا مطلب ہے نجف کے بال، کیونکہ یہ سوئیاں بالوں کی لٹوں جیسی لگتی ہیں۔ پاکستان میں اسے عقیدت کے پتھر کے طور پر پہنا جاتا ہے، اکثر انہی گھرانوں میں جہاں درِ نجف پہنا جاتا ہے۔ یہاں اس کی روایت، اصلی پتھر کی پہچان اور اچھے پتھر کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔
دستیاب پتھر
نام کہاں سے آیا اور روایت کیا ہے
درِ نجف کی طرح مہ نجف کا نام بھی عراق کے مقدس شہر نجف سے نکلا ہے۔ معدنی لحاظ سے دونوں ایک ہی چیز ہیں، یعنی کوارٹز، اور فرق صرف اتنا ہے کہ مہ نجف کے اندر روٹائل کی سوئیاں ہوتی ہیں۔ یہ پتھر شیعہ گھرانوں میں خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے اور عموماً چاندی میں جڑوا کر دائیں ہاتھ میں پہنا جاتا ہے۔ عقیق یا درِ نجف کے مقابلے میں اس کے بارے میں مخصوص روایات کم بیان کی جاتی ہیں، اور اس کی قدر زیادہ تر نجف سے نسبت اور خاندانی رواج کی بنا پر ہے۔ لوگ اسے عقیدت کی یاد کے طور پر، اور ثابت قدمی اور حفاظت کی امید کے ساتھ پہنتے ہیں۔ یہ عقیدہ اور روایت ہے، کوئی وعدہ یا ضمانت نہیں، اور ہم اس معاملے میں کوئی شرعی حکم نہیں دیتے۔
روٹائل کیا چیز ہے
روٹائل ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ ہے۔ یہ پہلے باریک سوئیوں کی شکل میں بنا، پھر کوارٹز اس کے گرد بڑھتا چلا گیا، اس لیے یہ سوئیاں پتھر کے اندر گہرائی میں بند ہو گئیں۔ سب سے زیادہ پسند سنہری اور سرخی مائل سوئیاں کی جاتی ہیں، اگرچہ چاندی جیسی اور کالی سوئیاں بھی مل جاتی ہیں۔ ان کے گرد کا کوارٹز پانی کی طرح صاف بھی ہو سکتا ہے اور دھوئیں جیسا بھورا بھی۔
اصلی مہ نجف کیسے پہچانیں
سب سے عام نقل شیشہ ہے جس کے اندر ریشے دبا دیے جاتے ہیں۔ قدرتی سوئیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہیں، پنکھے کی طرح پھیلتی ہیں، ہلکی سی خم کھاتی ہیں، ان کی موٹائی بدلتی رہتی ہے اور وہ پتھر میں مختلف گہرائیوں پر ہوتی ہیں۔ شیشے میں ریشے اکثر ایک ہی گہرائی پر سیدھی متوازی قطاروں میں لگے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ شیشے میں گول بلبلے ہوتے ہیں اور وہ ہاتھ میں جلدی گرم ہو جاتا ہے۔
ایک پتھر دوسرے سے عمدہ کیوں ہوتا ہے
- سوئیوں کا رنگ: گہرا سنہری یا تانبے جیسا سرخ سب سے زیادہ ابھر کر نظر آتا ہے۔
- گھنا پن اور پھیلاؤ: پورے پتھر میں برابر پھیلی سوئیاں ایک کونے میں پڑی چند سوئیوں سے کہیں زیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔
- کوارٹز کی صفائی: صاف کوارٹز سوئیوں کو نمایاں کرتا ہے، جبکہ دھندلا کوارٹز انہیں چھپا لیتا ہے۔
- تراش: ہموار کیبوشن یا ہلکے پہلوؤں والی اوپری سطح سوئیوں کو کئی زاویوں سے دکھاتی ہے۔
ان سب کے مقابلے میں سائز کی اہمیت کم ہے۔ ہر پتھر کی قیمت الگ طے کی جاتی ہے، اس لیے آپ اپنے بجٹ کے مطابق پتھر دیکھ کر چن سکتے ہیں۔ عام قیمتوں کا اندازہ قیمتوں کی ماہانہ گائیڈ سے لگائیں۔
جڑائی اور دیکھ بھال
روایتی انگوٹھی میں کیبوشن سادہ چاندی کے بیزل میں جڑا ہوتا ہے۔ پیچھے سے کھلی انگوٹھی روشنی کو آر پار جانے دیتی ہے اور سوئیاں جگمگا اٹھتی ہیں، جبکہ بند اور پالش کی ہوئی پشت پتھر کو زیادہ روشن مگر کچھ سپاٹ دکھاتی ہے۔ بڑے پتھر لاکٹ میں بھی بہت جچتے ہیں، جہاں سوئیوں کو قریب سے دیکھنا آسان ہوتا ہے۔
موہس پیمانے پر 7 سختی کی وجہ سے یہ روز پہنی جانے والی انگوٹھی کے لیے ٹھیک ہے۔ جو سوئیاں سطح تک آ جاتی ہیں وہ ننھے گڑھے چھوڑ سکتی ہیں، اور یہ کوئی خرابی نہیں۔ نیم گرم صابن والے پانی اور نرم برش سے صاف کریں۔
اگر آپ بغیر سوئیوں کا شفاف کوارٹز چاہتے ہیں تو درِ نجف دیکھیں، اور روشنی کی چلتی پٹی والے سنہری پتھر کے لیے ٹائیگر آئی سے موازنہ کریں۔ ہمارے مہ نجف کے ہر پتھر کی الگ تصویر لی گئی ہے۔ Authentic Gems کراچی سے پورے پاکستان میں بھیجتا ہے، اور کیش آن ڈیلیوری میں آپ ادائیگی سے پہلے پارسل کھول کر پتھر دیکھ سکتے ہیں۔ یہی صفحہ انگریزی میں پڑھیں۔